ٖ لعنتی معاشرہ اور ہم وائس آف چکوال (VOC)
ہیڈ لائن

2:26 PM استاد کا احترام

دین محمدی کا نظام ریاست ہی اصل میں فلاح و بہبود، عدل و انصاف، امن و سکون، خوشحالی و ترقی، مضبوط و طاقتور کی ضمانت ہے، تاریخ اسلام بھری پڑی ہے کہ جب جب مسلم حکمرانوں نے ریاست مدینہ کے نظام و اصول و قوانین کو مکمل سختی کیساتھ اپنایا وہ دنیا بھر میں کامیاب پر امن اور مضبوط ریاست رہی ہیں ان میں خلفائے راشدین کے دور اقتدار ہوں یا بعد کی اسلامی ریاستیں سب کی سب جنھوں نے ریادت مدینہ کے نظام کو اپنایا تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی گئی ہیں ۔۔۔ معزز قارئین!! اسلامی جمہوریہ پاکستان اس وقت تک امتیازی حیثیت کا مالک نہیں بن سکتا جبتک کہ یہاں پر حقیقی معنوں میں نظام مصطفی رائج نہ ہوں کیونکہ پاکستان کی سلامتی، بقا ہی اسلامی نظام ریاست میں ہے۔۔۔۔ معزز قارئین!! میں پاکستان میں اسلامی نظام کیلئے مسلسل آواز اس لیئے بلند کرتا آرہا ہوں کیونکہ پھر سزا و جزا اور عدل و انصاف طوائف کی طرح فروخت نہیں ہوسکے گا میں نے جب 

ڈاکٹر رامش فاطمہ کی تحریر پڑھی تو دل خون کے آنسو روتا رہا ڈاکٹر صاحبہ لکھتی ہیں کہ ۔۔۔" یار ہمیں یہ سیفٹی ٹِپس چاقو خنجر سپرے مت بتاؤ، یہ بھی مت کہو کہ سب مرد ایسے نہیں ہوتے، یہ لٹکا دو لٹکا دو واوڈے ٹائپ بکواس بھی رہنے دو۔ تمہیں موٹر سائیکل، گاڑی، نقدی، موبائل چھن جانے یا جان سے جانے کا خوف ہوتا ہے، ہمیں ان کے ساتھ ساتھ فضول گفتگو، گھٹیا جملے، پشت پہ ہاتھ پھیرنے، دوپٹہ کھینچے جانے، زبردستی چومنے کی کوشش کرنے یا ریپ کا خوف بھی ہوتا ہے۔ تم لعنتی منحوس اگر کچھ کر سکتے ہو تو اپنے ساتھ کام کرنے یا پڑھنے والی لڑکیوں کو انسان سمجھو، ہر وقت اپنے گندے دماغ کی سوچ ان پہ مسلط نہ کیا کرو۔ اگر کوئی لڑکی ہینڈ فری لگائے ہاسٹل کے باہر یا ہسپتال میں واک کر رہی ہو تو اُس کا پیچھا مت کیا کرو، اگر اُسے گلے میں دوپٹہ ڈالے بال کھولے ہنستے مسکراتے دیکھو تو اُسے مذہب یا معاشرے کا چورن مت بیچا کرو۔ اگر کسی رشتےدار کو لے کر ہسپتال جاؤ اور کوئی ڈاکٹر اُس مریض سے متعلق بات کر رہی ہو تو اُس ڈاکٹر کے جسم کو گھور گھور کر مت دیکھا کرو صرف اُس کی بات پہ توجہ دو وہ تمہارے مریض تمہارے اماں ابا بہن بھائی مامے چاچے کے مرض سے متعلق بات کر رہی ہے اپنا رشتہ پیش نہیں کر رہی۔ 

اپنی کولیگ کو مووی یا ڈنر پہ بلاؤ تو صاف صاف بولو کہ میں اچانک تمہارا ہاتھ دبوچ کر اپنی ٹانگوں کے بیچ رکھ سکتا ہوں چاہے تم خوف سے سُن ہو جاؤ لیکن یہ میری پسندیدگی کا اظہار ہے۔ اگر تم اُستاد ہو تو الو کے پٹھے مت بنو، مارکس ڈگری سیمسٹر پاس فیل کے دباؤ میں ہمیں سارا دن اپنے پاس مت بٹھایا کرو، ہمارے لعنتی کلاس فیلوز سے ہمارے نمبر لے کر اُن پہ گھٹیا میسج نہ کیا کرو، اگر میرا کسی کلاس فیلو سے افیئر ہے تو اُس کا یہ مطلب نہ سمجھا کرو کہ مجھے تمہارے لیے بھی میسر ہونا چاہیے۔ اگر تم ہمارے ابا کے دوست یا کوئی رشتے دار ہو تو گھر میں سب کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھا کر ہمیں چھونے کی کوشش مت کیا کرو۔ 

ہماری گاڑی یا بس کے ساتھ موٹر سائیکل چلاتے ہوئے اپنے جنگی آلات کی نمائش مت کیا کرو۔ جب ہم کہتے ہیں ڈِک پکس مت بھیجو تو اوریا مقبول جان بن کر اِسے اپنا حق مت سمجھا کرو۔ سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ہماری تصویریں کاپی کر کے بےغیرتی نہ کیا کرو۔ اگر تم کوئی بہت بڑے لکھاری یا آرٹسٹ ہو ایک زمانہ تمہارا قدر دان ہے تو یہ ہمارے ان باکس میں گھٹیا تصاویر بھیجنے یا ہمارا استحصال کرنے کا لائسنس نہیں ہے یہ کتے کام مت کیا کرو پھر ہمارے مشترکہ دوست جب تمہاری منحوس شکل اور فن کی تعریفیں کرتے ہیں تو ہماری اُن سے دوستی بھی متاثر ہونے لگتی ہے۔ اپنے رویے بدلو، اپنے بیٹوں کو سکھاؤ اور سمجھاؤ کہ گھر کے کام بیسک لائف سکِل ہوتے ہیں، سب کو آنے چاہئیں۔ پیار محبت سب کرو لیکن کسی کا جنسی یا جذباتی استحصال مت کرو۔ 

زندگی میں جسٹ فار فن اینڈ اینڈونچر کے نام پہ کھیلوں میں حصہ لیا کرو ہمارے ساتھ یہ سب مت کرو۔ جب تمہارا دوست بےغیرتی کر رہا ہو تو اُس کے ساتھ ہنسنے کے بجائے اُسے بھی یہ بتانے کا حوصلہ رکھو کہ وہ غلط کر رہا ہے اگلے دن آ کر ہمیں مت بتایا کرو کہ تمہارے بارے میں یہ باتیں ہوتی ہیں تمہیں خود کو بدلنا چاہیے۔ پانچ پچیس یا پچپن برس سے فرق نہیں پڑتا، لباس کا بھی قصور نہیں ہوتا، بچے بچیاں دونوں بھگت رہے ہیں، یہ زہر ہمارے اندر مت اتارو۔ کسی کو تو بخش دو۔ ہمیں بھی انسان سمجھو۔" ۔۔۔ معزز قارئین!! ڈاکٹر رامش فاطمہ نے اپنی تحریر میں جس قدر موجودہ معاشرے کی لعنت کو ظاہر کیا گیا ہے یقین جانئے کہ اصل اس سے کئی گنا خباثت و لعنت اور بےغیرتی میں مبتلا ہے اس معاشرے کا علاج اور حل صرف اور صرف اسلامی نظام میں پنہا ہے بصورت آپ دنیا بھر کے نظام ریاست کو اپنالیں سوائے تباہی بربادی اور رسوائی کے کچھ حاصل نہ ہوگا، الحمدللہ ہمارا دین دین فطرت پر محیط ہے اسی لیئے یہ کامیابی و کامرانی کی ضمانت ہے اللہ وہ دن جلد لائے جب اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نظام مصطفی رائج ہو آمین 

0 Comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

:) :)) ;(( :-) =)) ;( ;-( :d :-d @-) :p :o :>) (o) [-( :-? (p) :-s (m) 8-) :-t :-b b-( :-# =p~ $-) (b) (f) x-) (k) (h) (c) cheer
Click to see the code!
To insert emoticon you must added at least one space before the code.

 
وائس آف چکوال (VOC) © 2007-2023. All Rights Reserved. Powered by Blogger
Top