قوم کی پہلی خاتون فائٹر جیٹ پائلٹ اور نڈر اور دلیر بیٹی مریم_مختار 24 نومبر 2015 کو تربیتی طیارے پر معمول کی پرواز کے دوران میانوالی کے قریب فنی خرابی کے باعث جہاز تباہ ہونے سے شہید ہو گئی تھیں۔
مریم مختار نے شہر قائد میں اٹھارہ مئی 1992 کو آنکھ کھولی۔ انہوں نے انٹر میڈیٹ کا امتحان آرمی پبلک اسکول و کالج ملیر کینٹ کراچی سے پاس کیا۔ وہ فٹبال کی بہترین کھلاڑی ہونے کے ساتھ ساتھ نیشنل وومن فٹ بال چیمپین شپ میں بلوچستان یونائیٹڈ کے لیے بھی کھیل چکی ہیں.
مریم مختار نے 2014 میں پاکستان ایئر فورس میں گریجویٹ کے طور پر شمولیت اختیار کی۔ ان کا تعلق پی اے ایف کے 132ویں جی ڈی پائلٹ کورس سے تھا، جس میں6 دیگر خواتین بھی شریک تھیں۔
قوم کی قابل فخر بیٹی مریم مختیار نے 24 نومبر 2015 کو شہادت کا رتبہ حاصل کیا ، مریم مختیار نے ہزاروں فٹ کی بلندی پر اڑنے والے تربیتی جنگی جہاز میں پیدا ہونے والی خرابی کے دوران انسانی آبادی کو بچاتے ہوئے جام شہادت نوش کیا تھا۔
صنف نازک ہونے کے باوجود مریم مختیار نے بہادری کی ایسی تاریخ رقم کی جس کی مثال شاید ڈھونڈنے سے بھی نہ ملے۔ جی ڈی کورس کی تکمیل کے بعد فائٹر کنورشن کے ایک اہم مشن کے دوران مریم مختیار کے ڈبل کاک پٹ تربیتی جنگی جہاز میں اچانک سنگین نوعیت کی فنی خرابی پیدا ہوئی، جس کے بعد یہ بات لازم ہو چکی تھی کہ کم سے کم وقت میں جہاز کو چھوڑ کر کاک پٹ سے پیرا شوٹ کے ذریعے چھلانگ لگائی جائے۔
#مریم_مختیار اور ان کے ساتھ جہاز میں سوار پاک فضائیہ کے انسٹرکٹر اسکوارڈن لیڈر ثاقب عباسی نے جنگی ہوا بازی کے ان ہنگامی اقدامات اور قوانین پر عمل بھی کیا۔
تاہم ہزاروں فٹ کی بلندی پر اڑنے والے تربیتی جنگی جہاز جو انتہائی تیزی سے اپنی بلندی کم کر رہا تھا، اسے انسانی آبادی سے دور لے جانے کا خیال بھی ان مشکل ترین حالات میں ان کے ذہنوں پر حاوی رہا اور ان کی کوشش تھی کہ جہاز کو حتی الامکان انسانی آبادی اور کھیت کھلیان سے دور لے جایا جائے اور پھر پاک فضائیہ کے اس اہم نوعیت کی تربیتی مشن کے اختتام پر اپنی سانسیں اس مٹی پر قربان کردیں۔
بشکریہ :ملک معظم علوی
+966 56 039 0578
0 Comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
Click to see the code!
To insert emoticon you must added at least one space before the code.